Khayal

انا کے کھوکھلے وعدے, جو شرافت کی گھٹی میں زہر بن کر کوٹ دیے گئے کہ اپنے لوگوں سے اتنی نفرت, اس زمین, جہاں اگے اور پنپے, اسکے پودوں کو نوچ کر ہم نےاگانا چاہا اک نئ زمیں میں, اک نئے وطن وطن میں. پودےبھی مرجھا گئے ہیں اور اب مالی بھی ہارچکے ہیں. کہ یہ پودے جو اس زمین پر شجر بنتے اور پھل دیتے, وہمر چکے ہیں. اور یہ زمین بنجر پڑی ہے, نہ اس پہ کچھ اگ رہا ہے نہ مالی کا پیٹ بھر رہا ہے. مالیبھی مر چکا ہے, مٹی میں ہی اب مل چکا ہے.

 

Advertisements
Khayal